حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ ہائے علمیہ کی سپریم کونسل کے سیکریٹری آیت اللہ محمد مہدی شب زندہ دار نے سیستان و بلوچستان کے حوزہ علمیہ کے ذمہ داران سے ملاقات میں اہل بیت علیہم السلام کے ایامِ عزا اور رہبرِ شہید کی شہادت پر تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اخلاص ہی کامیابی کی اصل بنیاد ہے اور خالص نیت انسان کے عمل کو بہترین بنا کر اس میں خاص برکت پیدا کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایثار ایک عظیم انسانی اور دینی صفت ہے جس کی تمام آسمانی مذاہب نے تعریف کی ہے۔ ایثار کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ضرورت پر دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دے، تاہم دینِ حق کی خدمت کے موقع پر انسان کو خود آگے بڑھنا چاہیے اور یہ موقع دوسروں کے لیے نہیں چھوڑنا چاہیے۔
آیت اللہ شب زندہ دار نے کہا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو آزما رہا ہے کہ کون بہترین عمل انجام دیتا ہے، اور "احسن عملاً" بننے کی پہلی شرط خالص نیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی کام صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیا جائے تو وہ خود مشکلات آسان کر دیتا ہے اور بند راستے کھول دیتا ہے۔
انہوں نے رہبرِ شہید کی زندگی میں اخلاص کی متعدد مثالوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہی اخلاص ان کی کامیابی کا راز تھا۔ اگر انسان چودہ معصومین علیہم السلام، بالخصوص حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرے تو اس کے لیے مشکلات آسان ہو جاتی ہیں اور اس کی بات میں اثر پیدا ہو جاتا ہے۔
آیت اللہ شب زندہ دار نے مزید کہا کہ دشمن ایران کے خلاف مختلف منصوبے بنا رہا ہے، اس لیے قومی، دینی اور مذہبی سلامتی کے تحفظ کے لیے بصیرت ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بصیرت کا مطلب یہ ہے کہ انسان حالات کے ان پہلوؤں کو بھی سمجھ سکے جو عام لوگوں کی نگاہ سے اوجھل رہتے ہیں۔
ملاقات میں سیستان و بلوچستان کے حوزہ علمیہ کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین ہادی رمضانی نے بھی صوبے کے حوزہ علمیہ کی موجودہ صورت حال، تعلیمی ضروریات، مذہبی ماحول اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی۔









آپ کا تبصرہ